اپنے لئے تو سبھی جیا کرتے ہیں

Poet: asadullah abbasi By: asadullah abbasi , rawalpindi

اپنے لئے تو سبھی جیا کرتے ہیں
اس جہاں میں کب لوگ سکھ کسی کو دیا کرتے ہیں

آتی ہے بہار ہر چمن میں
پھول مگر سب کب کھلا کرتے ہیں

ملتے ہیں ہزاروں لوگ زندگی میں
تجھ سے مگر اس جہاں کم ہی ملا کرتے ہیں

جلتے ہیں ہزاروں چراغ شب و روز
یوں مگر کھلی فضا میں کب جلا کرتے ہیں

حسرت ہے کے جاتی ہی نہیں دل سے
بن کھلے غنچےجو مرجھا جایا کرتے ہیں

پیتے ہیں سبھی غم حیات بھلانے کے لیے
یوں چلتی راہوں میں سرے عام کب پیا کرتے ہیں

رات بہت بیت چکی غزل ابتداء کرو اسد
دو چار شعروں سے دل کب بھلا کرتے ہیں

Rate it:
Views: 819
27 Oct, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL