اپنے پہلو میں وہ غیروں کو بٹھاتا کیوں ہے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

اپنے پہلو میں وہ غیروں کو بٹھاتا کیوں ہے
مجھے چاہتا نہیں تو مجھ کو جلاتا کیوں ہے

سمجھ آتی نہیں اس کی انہیں باتوں کی مجھے
خود ہنساتا ہے تو پھر خود ہی رولاتا کیوں ہے

لیلہ مجنوں اور ہیر رانجھا وغیرہ جیسے
مجھے الفت کے ہی قصے وہ سناتا کیوں ہے

کبھی بھول کر بھی میرا اس کے جو سامنے سے گزر ہو
تو وہ چہرے سے نقاب اپنے ہٹاتا کیوں ہے

اگر اس نے میرا نام نہیں لکھا اس پر
مجھ سے پھر اپنی ہتھیلی کو چھپاتا کیوں ہے

شاید جان گۓ ہیں کہ تجھ سے ہی محبت ہے مجھے
لوگ پوچھتے ہیں کہ تو مجھ کو ستاتا کیوں ہے

اپنی مرضی سے جو باقر مجھ سے روٹھتا ہے تو پھر
مجھے خوابوں میں وہ رو رو کے مناتا کیوں ہے

Rate it:
Views: 565
26 Mar, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL