اپنے پے بھروسا ھے تو تیرِ نظر کا ڈر کیا

Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddah

اپنے پے بھروسا ھے تو تیرِ نظر کا ڈر کیا
تم جیسا مسیحا ھو تو زخمِ جگر کا ڈر کیا

انجان سی راھوں میں بھٹکے ھوئے راھی کی قسم
محبت میں نا بچھڑیں جو منزل کی ڈگر کا ڈر کیا

ھر لحظہ پریشان کیے جاتی ھے وقت کی تیز روی
محبت میں ھو سکوں تو ڈھلتی عمر کا ڈر کیا

کھلی نظروں کے تیر کھا کے بھی جو زندہ رہ گیا
اُسے پھر با پردہ ناگن کے زھر کا ڈر کیا

اتنے صبر کا پھل بھی راس نا آ سکا ھمیں
اب تیری جفا کے کڑوے ثمر کا ڈر کیا

تیری وفا کے سحر میں ھم قیدوبند ھیں کب سے
اب دو گھونٹ زھرِ جفا کے اثر کا ڈر کیا

جنت سے ھم کو اپنی خواھش نے نکلوا دیا
اب دوزخ میں اُگے خار و شجر کا ڈر کیا
 

Rate it:
Views: 496
13 Jan, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL