اپنے پے بھروسا ھے تو تیرِ نظر کا ڈر کیا
Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddahاپنے پے بھروسا ھے تو تیرِ نظر کا ڈر کیا
تم جیسا مسیحا ھو تو زخمِ جگر کا ڈر کیا
انجان سی راھوں میں بھٹکے ھوئے راھی کی قسم
محبت میں نا بچھڑیں جو منزل کی ڈگر کا ڈر کیا
ھر لحظہ پریشان کیے جاتی ھے وقت کی تیز روی
محبت میں ھو سکوں تو ڈھلتی عمر کا ڈر کیا
کھلی نظروں کے تیر کھا کے بھی جو زندہ رہ گیا
اُسے پھر با پردہ ناگن کے زھر کا ڈر کیا
اتنے صبر کا پھل بھی راس نا آ سکا ھمیں
اب تیری جفا کے کڑوے ثمر کا ڈر کیا
تیری وفا کے سحر میں ھم قیدوبند ھیں کب سے
اب دو گھونٹ زھرِ جفا کے اثر کا ڈر کیا
جنت سے ھم کو اپنی خواھش نے نکلوا دیا
اب دوزخ میں اُگے خار و شجر کا ڈر کیا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






