اپنے کاندھے پے سر رکھنے دو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaنا روکوں ان موتیوں کو
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
آج چھلک جاؤ آنکھوں سے
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
بہا دو خشک آنکھوں سے ندیاں
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
لہرے بھی سمندر میں ڈوبے
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
سن کر داستان ستارے ٹوٹے
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
بادل بھی گرج کے برسے
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
سنو! پیارسے اپنی آغوش میں بٹھا لو
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
اپنے کاندھے پے سر رکھنے دو
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
چاہے چپ رہو ،مگر مجھے سن لو
کہ ، دل ہلکا ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






