اپنے گھر کو دوزخ بناکر

Poet: purki By: m.hassan, karachi

اپنے گھر کو دوزخ بناکر
کیسے تم جنّت میں جاؤگے

ماں باپ کو دن رات ستاکر
کیسے تم فلاح پاؤگے

علم و ہنر سے منہ موڑ کر
کیسے تم انسان کہلاؤگے

محنت اور مشقّت سے بھاگ کر
کیسے تم منزل پاؤ گے

عشق و محبّت میں پھنس کر
کسی بھی کام کے تم نہ رہوگے

بڑوں کی عزّت خاک میں ملاکر
زندگی میں تم کیا عزّت پاؤگے

بُرے دوستوں کی صُحبت میں رہ کر
بربادی کے سوا تم کچھ نہ پاؤگے

جھوٹ کی بُرائی کو اپنی عادت بناکر
مستقبل میں تم کیا کیا گُل کھلاؤ گے

گھرسےچھوٹی موٹی چیزیں چُراکر
تم چور سے ڈاکو بن جاؤ گے

اپنا وقت کبھی برباد نہ کر پیارے
ورنہ کبھی تم نہ بخشے جاؤگے

سچائی سے فرار ہوکر
اللہ کو تم کیا منہ دکھاؤگے

چھوڑ دو سب گھڑ بڑ پیارے میری بات سمجھا کر
وقت بڑا ظالم ہے تم جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

 

Rate it:
Views: 672
10 Jan, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL