اپنے ہونے کا احساس دلا دیا کرو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاپنے ہونے کا احساس دلا دیا کرو
تم کچھ نہیں تو میری چوکھٹ کی کنڈی ہلا دیا کرو
فلک اور چاند تو ایک ہی ہیں جاناں
تم دور سے دیکھ کر مسکرا دیا کرو
میں تیرے پاس نہیں ۔ پر پل تیرے ساتھ ہوں
ہاتھ رکھ کر سینے پے مجھے سلا دیا کرو
ادھر ُادھر کیوں ڈھونڈتے ہو مجھے لکی
آنکھیں بند کر کے اپنا حال بتا دیا کرو
لہروں کی طرح تڑپ رہی ہیں زندگی میری
تم سجدوں میں جا کر دو ۔ چار اشک بہا دیا کرو
پھر نہ کہنا میں نے روکا نہیں تمہیں
تم جانے سے پہلے اک بار بتا دیا کرو
آنئیہ ٹوٹا تو کتنے ٹکرے ہو گیے میری ذات کے
تم سمیٹ کر مجھے آنیئے کو بتا دیا کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






