اپنے ہی لوگوں پہ وار ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreپھولوں میں خوشبو نہیں موسم بھی بے رنگ ہے
یہ کیسی بہار آئی تنہا بلبل تنہائی گل کے سنگ ہے
مجھ کو نظر آیا ہے جو اپنا سا کیوں لگنے لگا
میرا نہیں یہ روپ تو تیرا ہی کوئی رنگ ہے
پہنچے تیرے کوچے تلک تیرا نشاں پا نہ سکے
چلتے رہے آگے مگر گلیوں میں راستہ تنگ ہے
ایک ہم ہی تیرے حسن و جمال کے مداح نہیں
جس نے تجھے دیکھا تیرے حسن سے وہ دنگ ہے
تنہائیوں کی راہگزر پہ کوئی بھی تنہا نہیں
ہر موڑ پہ تو ساتھ ہے تیرا سایا سب کے سنگ ہے
جو طویل ہے خزاں کا موسم غم نہ کرو دوستو
یہ تو نوید ہے بہار کی ہر آن دل میں امنگ ہے
کیا خوش نوا منظر سماعت اور بصارت کے لئے
کس ساز کی آواز پے یہ کیسا جلترنگ ہے
اپنا تمدن کیا ہوا تن پہ لبادہ غیر کا
پہچانیے یہ کون ہے مسلم یا اہل فرنگ ہے
خود کو کیسے بچائیں گے دشمن سے کیا لڑ پائیں گے
اپنے ہی لوگوں پہ وار ہے اپنے ہی ملک میں جنگ ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






