اپنے ہی نام پہ اب خود سےبغاوت کرنا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Makati Cityاپنے ہی نام پہ اب خود سےبغاوت کرنا
زندگی ! مجھ سے نہ جینے کی تجارت کرنا
میری آنکھوں میں ترا عکس ہے دیکھا سب نے
تُو بھی اب میرے تخیل کی حفاظت کرنا
ہجر کی رات کا قصہ ہے سنانا باقی
ہو اگر وقت کبھی وصل عنائت کرنا
بات ہی بات میں مٹ جائے یہ نقشہ دل کا
شہر زندان کی ایسی نہ تُو حالت کرنا
تیری عادت میں تو شامل ہے عطا کے بدلے
مجھ وفا دارِ محبت سے عداوت کرنا
جنکے ہوتے ہوئے لٹ جائے حسن کی دولت
ایسے رشتوں کی نہ وشمہ تو وکالت کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






