اچھا نہیں گلشن میں یہ برسات سے پہلے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااچھا نہیں گلشن میں یہ برسات سے پہلے
گو رات کی رانی بھی کِھلے رات سے پہلے
بس میرے جوابات پہ ہی یوں نہ تڑپنا
کچھ سوچنا اپنے بھی سوالات سے پہلے
تمنائے محبت کو نہ آنکھوں میں چھپانا
جذبات بھی ظاہر ہوں خیالات سے پہلے
کیا خون کی ہولی ہے یہ برما کی زمیں پر
کچھ شرم کرو زیست پہ ہر گھات سے پہلے
ہر نیکی کے بدلے میں ملے سب کو محبت
اعمال بھی بہتر ہوں جو صدقات سے پہلے
اس بزم میں آتے ہو مجھے شعر سنانے
اوذان ضروری ہیں جی جذبات سے پہلے
زلفوں میں مری آج یوں گجروں کو سجا دو
اے وشمہ مرے پیار کی بارات سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






