اک اور غزل کہہ لیتے ہیں اک اور فسانہ بن جائے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاک اور غزل لکھ لیتے ہیں اک اور فسانہ ہو جائے
ادراک کی سونی وادی کا موسم تو سہانا ہو جائے
جو ہونٹ کبھی نہ کہہ پائے وہ پھول نے آخر کہہ ڈالا
اب پھول کو ڈر ہے وحشت میں ٹہنی سے جدا نہ ہو جائے
میں بیچ کھڑا ہوں نظروں کی انگار فشانی میں تب تک
الفاظ کی حرمت کا جب تک ہر قرض ادا نہ ہو جائے
ہاتھوں کی لکیروں میں ابتک وہ نقش سجائے بیٹھے ہیں
اب دھیرے سے آ جاؤ ناں ۔ تقدیر خفا نہ ہو جائے
یہ راہ وفا کا قصہ ہے اس راہ پہ چلنے والوں کا
ہر روپ بکھر کر ساز بنے ہر لفظ ترانہ ہو جائے
اس آنکھ کی پرنم وادی میں کچھ خواب بھرے ہیں رنگوں کے
ان رنگوں میں ڈھلتے ڈھلتے یہ عمر قضا نہ ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






