اک بات میری مانو
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreسنو
اک بات میری مانو
کچھ خواب میرے چنُ لو
اُنھیں حقیقت میں بدل دو
ہاتھوں کی لکیروں سے
تقدیر کی تحریروں سے
مجھ کو تم چرُا لو
سانسوں میں چھپا لو
اک بات میری مانو
دل تم پہ فریفتہ ھے
یہ جاں تم پہ واری
کوئ عہد تم بھی کر دو
اک احسان کر دو
اک بات میری مانو
جو سنگ سنگ چلو تم
خار راہ بھی مخملی ھو
دل ناداں کی کوئ تو
ڈھارس بندھی ھو
میرے ھمدم
میرے ساتھی
اک بات میری مانو
حالات کی قسموں سے
زمانے کی رسموں سے
اک بار مجھے چرُا لو
مجھے زندگی بنا لو
اک بات میری مانو
اک بات میری مانو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






