اک بار جو کہتے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadاک بار جو کہتے میرے ہو سو بار جان لوٹا دیتا
تیری بانہوں کے گھیروں میں لمحوں میں عمر بیتا دیتا
آ جاتے جو ملنے تم تو تیرا کیا جاتا ظالم
میں وصل کے اک لمحے سے عمر کا ہجر چھپا دیتا
تجھے آنا تھا نہ آیا میرا دل بہت دکھایا
بہتر تھا اگر مجھے نہ آنے کی وجہ بتا دیتا
اگر ملنا ہوتا تو نے مجھے تو ملنےکی امید پہ
دو دن کیا میں انتظار میں دو صدیاں بھی صدا دیتا
آ جاتا وہ ملنے ساجد تو دل اسے دعا دیتا
اک بار جرم سنا دیتا پھر چاہے جو سزا دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






