اک بوند پانی کے لیئے

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quetta

تختِ دل اس نے چنا پھر راجدھانی کے لیئے
کاہے کی کوزہ گری ہے دارِ فانی کے لیئے

طشتری میں خواب اس نے رکھ کے بھیجے ہیں مجھے
باب وا ہوتے گئے ہیں یادہانی کے لیئے

پھر نجوم و کہکشاں اپنی گزر گاہوں میں ہے
پردۂِ سیمیں، عروجِ ارغوانی کے لیئے

میں نے تو در ماندگی کا سارا قصہ کہہ دیا
اس نے چھوڑا فیصلہ سردارِ ثانی کے لیئے

سب یذیدوں نے یہاں مل کر کیا ہے فیصلہ
کربلہ ترسے گا پھر اک بوند پانی کے لیئے

آگ خیموں کو دکھائی، حکمراں نے کی عطا
جس کو دستارِ فضیلت، گل فشانی کے لیئے

اہتمامِ مے کشی میں وہ کہ کہنہ مشق تھا
تجربہ تھا ماہِ نو کا اصفہانی کے لیئے

پھر سماعت میں پرانی یاد کی پائل بجی
شہ مریدیؔ درد جا گا ایک ہانیؔ کے لیئے

چھید کشتی میں وہی ڈالیں گے حسرتؔ کیا پتہ
جن کو اجرت پر رکھا تھا بادبانی کے لیئے

Rate it:
Views: 190
02 May, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL