اک بے نام سے تعلق کو نبھانے کیلئے
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadصرف اک شخص کا ساتھ نبھانے کیلئے
لا تعلق ٹھرا میں سارے زمانے کیلئے
عمر بھر کے غم خرید لئے میں نے
چند لمحوں کے مسکرانے کیلئے
اشک پلکوں میں سنبھال رکھے ہیں
چراغ آنکھوں کے جلانے کیلئے
تھا میرا گریبان میرے ہاتھوں میں
اس سے کیا بڑا تماشا ہو دکھانے کیلئے
خود اپنی اناؤں کو میں نے ڈھیر کیا
اک بے نام سے تعلق کو نبھانے کیلئے
سوکھے پتوں پہ تتلیوں کا آنا عثمان
رسم اچھی ہے سبق سکھانے کیلئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






