اک تیرے جانے کے بعد

Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwala (JWS)

 ایسے روٹھے اپنے آپ سے اک تیرے جانے کے بعد
کم ملتے ہیں لوگوں سے اک تیرے جانے کے بعد

لکھ لیتے تھے کچھ حرف بیاض اُلفت کی روشنائی سے
نہ رہی تشنگی باقی اب تو اک تیرے جانے کے بعد

گزر جاتا ہے بادل بھی اُداس اب تو میرے آنگن سے
خوشی سے برسا نہیں کبھی اک تیرے جانے کے بعد

لبوں پہ سجا لیتے ہیں خوشیوں کی دھول
آیا نہ کبھی قرار اک تیرے جانے کے بعد

تُو پھر مہکے اک دم تازہ ہوا کا جھونکا بن کر
مانگتی پھر رہی ہوں دعا اک تیرے جانے کے بعد

چھا جاتی ہیں گھٹائیں شام ڈھلے ہی گھر میرے
نہ رہی روشنی باقی اب اک تیرے جانے کے بعد

Rate it:
Views: 653
09 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL