اک خواب ادھورا سا
Poet: Benish Sana By: Benisha Sana, Gujratدسمبر کی دھند ہے
تیرے یاتھ میں، میرا ہاتھ یے
اک لمبا کچا رستہ یے
اس پہ ہم تم چلتے ہیں
کچھ باتیں دونوں کرتے ہیں
کچھ باتیں کہہ نہیں پاتے ہیں
تم دور افق پہ انگلی سے
ایک منظر سا بناتے ہو
میں اس کو دیکھنے لگتی ہوں
تب مجھ کو ٹھوکر لگتی ہے
تم کھینچ کہ میرے یاتھوں کو
مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہو
اور گرنے سے بچاتے ہو
میرے الجھے بال پیشانی پہ
تم ہاتھوں سے ہٹاتے ہو
میرے لرزتے ٹھنڈے ہونٹوں پہ
تم اپنے ہونٹ سجاتے ہو
پھر چپکے سے میرے کان میں
کوئی ایسی بات کہہ جاتے ہو
مسکرا کے یاتھ چھڑا کے میں
دو قدم پیچھے کو ہٹتی ہوں
پھر یوں ہی شرما کے جاناں
تیری بانہوں میں سمٹتی ہوں
اک ہچکی مجھ کو آتی ہے
اور آنکھ میری کھل جاتی ہے
میں تنہا اپنے بستر پہ
اک تکیہ بھینچے لیٹی ہوں
اے کاش پھر نیند آ جائے
وہ خواب وہیں سے جڑ جائے
تب آنکھ کبھی نہ کھولوں میں
تیرے سنگ ابد تک ہو لوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






