اک دن لوٹ کے آئے تو
Poet: Khalil Ullah Farooqi By: Asma Siddiqui, karachiچھوڑ کے تم کو جانے والا
اک دن لوٹ کے آئے تو
یاد کا آنچل خوشبو بن کر
پھر تم پر لہرائے تو
کوئی پرانا زخم کریدے
میٹھا درد جگائے تو
گزرے پل کا دلکش سپنا
آنکھوں میں بس جائے تو
دل پر زخم لگانے والا
مرہم لے کر آئے تو
مان کا شیشہ توڑنے والا
پھر سے جوڑنے آئے تو
دھوپ میں چھوڑ کے جانے والا
سایہ بن کر آئے تو
دل سےدل کی رائے نہ پوچھو
دل پاگل ہو جائے تو
چھوڑ کے تم کو جانے والا
اک دن لوٹ کے آئے تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








