اک زمانے سے ہوں اداس بہت
Poet: NADEEM MURAD By: nadeem murad, umtata RSAاک زمانے سے ہوں اداس بہت
اب تو ہونے لگی ہے یاس بہت
گرچہ ہے بحرِ بیکنار یہ دل
ہے لبوں پر ہمارے پیاس بہت
کیا کوئی اور غم سہے ایسا
ہم نے دیکھی شکستہ آس بہت
تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا موت کا خوف
بڑھ گیا زیست کا ہراس بہت
آنا جانا لگا رہا اس کا
ہم کو دنیا نہ آئی راس بہت
عام ہو جائے گا جہاں میں وہ
جو بنائے گا خود کو خاص بہت
اس کو چُھوا تو یہ ہوا احساس
سخت ہے کسقدر کپاس بہت
دھڑکنیں اپنے دل کی سننے لگا
جب ہوا وہ ذرا سا پاس بہت
یوں ہنسے گا تو کوئی کیا جانے
مدتوں سے ندیم اداس بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






