اک شخص کے ہاتھوں میں بہت اب تک کھیلے ہیں

Poet: عامر ارشاد By: Muhammad Amir Irshad, Rawalakot

اک شخص کے ہاتھوں میں بہت اب تک کھیلے ہیں
دکھ سارے جہاں بھر کے اِس عشق میں جھیلے ہیں

بدلیں گے اب ہم ایسے دیکھے گا شہر سارا
قہقوں میں گُم ہوں گے اشکوں کے جو ریلے ہیں

وہ شخص بھی اب ہم سے دامن کیوں چُھڑاتا ہے
پانے کے لیے جس کو بہت پاپڑ بیلے ہیں

اُترو جو کبھی اس میں ، ہیں درد ہی درد ہر سُو
جو دور سے دیکھو تو اس عشق میں میلے ہیں

رہے عشق سے پہلے ہم احباب کے جھرمٹ میں
اے لوگو آئو دیکھو ، اب کتنے اکیلے ہیں

بے چینی ، بے بسی ، دکھ درد اور غم بھی
ہے عشق گُرو ان کا ، یہ سب تو چیلے ہیں

Rate it:
Views: 521
07 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL