اک غزل، میری غزل کے نام
Poet: Sahar Naseem By: M.Nouman Siddiqui, Karachiاے حسیں مہہ جبین اپسرا نازنیں
مرے
دل کے جھروکوں سے جھانکتی حسینا
مرے
خوابوں میں تو بسی ھے
جیسے
صندل میں خوشبو
گلاب میں مہک
سِیپ میں صدف
مرے
پیار کے کنارے
عشق کے ستارے
محبت کی کہکشاں
سب ہی ہیں تمہارے
جیسے زمیں، آسمان
چاند اور سورج
یہ بات یقینِ محکم، رہتی دنیا ہم تم
رہیگے اک دوسرے کے
میں تیرے پیار کا ساون
تو میری عشق کی رم جھم
یہ بات اٹل حیقیقت
لازوال ہماری محبت
قائم رہیگی سدا
مثلِ چاندنی و شفق
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






