اک لڑکی وہ محبوب لگی
Poet: Zeebiii By: Zubair Arshad, lahoreاےنازک گلاب کی پتی
نہ نازکی پہ فخرکر
خدانےکچھ بنایا ہے
نازک تجھ سےبڑھ کر
جب ميں کچھ بھی ديکھوں تو
بس نظر وہی آۓ
پھول بھی اسکے سامنے
اک دم سے مرجھا جاۓ
اک دن ميں نے دیکھا تو
چھت پر تنہا بيٹھی تھی
ديکھ مجھےشرما گیٔ
نظر سے وہ گھبرا گیٔ
اشارتوں ميں بتلايا
ميں نيا ہوں ہمسايہ
پھر اکثر چھت پہ جاتاتھا
اسکو وہيں پہ پاتا تھا
اک دن حوصلہ کر کہ
کبوتر کو اڑا دیا
خط وہاں پہنچا ديا
وہ جانکہ انجان بنی
کبوتر سے نادان بنی
ميں نے اسکو بتلایا
خط ہے پاؤں ميں سمجھايا
اسنے قاصد کو جکڑا
خط کو ہاتھ ميں پکڑا
ميری طرف ديکھااسنے
ہنس کر کچھ کہا اسنے
کبوتر چھوڑدیا اسنے
منہ اپنا موڑ ليا اسنے
جو قاصدلوٹ کہ آيا
کاغذ کا ٹکرابھی لایا
وہ لڑکی گنگنا بھی رہی تھی
ليکن مسکرا بھی رہی تھی
ہنسی اسکی کيا خوب لگی
اک لڑکی وہ محبوب لگی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






