اک مجھ کو ملا یہ غم زمانے کو کیوں نہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiاک مجھ کو ملا یہ غم زمانے کو کیوں نہیں
میں جل گیا خبر میرے آشیانے کو کیوں نہیں
قربت کسی حسین کی میں نے حاصل تو کی مگر
اب ملتی مجھ کو فرصت مسکرانے کی کیوں نہیں
اس زمانے کے لوگ اب مطلب پرست ہیں
یہ حرم کو جا رہے ہیں صنم خانے کو کیوں نہیں
لگتا ہے دل میں خون کا قطرا نہیں رہا
وہی تیری ادائیں ستاتی اب دیوانے کو کیوں نہیں
جلتے چراغ تو نے کتنے بجھا دیے
ساقی لگتی آگ تیرے مے خانے کو کیوں نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







