اک مورنی سی دل میں ہے لئے نین شرابی
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, Islamabadوہ چاند سا مکھڑا اور ہونٹ گلابی
اک مورنی سی دل میں ہے لئے نین شرابی
ہر سمت اداؤں کے نئے جال بچھا کے
دیوانہ بنا ڈالا مجھے نظریں ملا کے
وہ چھت کی منڈیروں پہ گھنے پیڑ کے سائے
روداد محبت مجھے ہر روز سنائے
انداز تخیل سے میری بانہوں میں آ کر
مخمور سی آنکھوں میں کئی سپنے سجا کر
سانسوں کی تپش دل میں نئی آگ لگا دے
اور وادی زینت تو میرے ہوش اڑا دے
وہ پہروں ملاقات مسلسل کا بہانہ
آتا ہے بہت یاد مجھے گزرا زمانہ
لبریز ہوا جاتا ہے پیمانہ الفت
قسمت سے ملا کرتی ہے ضیاء ایسی محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







