اک پرندہ شاخ پر بیٹھا ہوا

Poet: عین عرفان By: راحیل, Karachi

اک پرندہ شاخ پر بیٹھا ہوا
حسرتوں سے آسماں تکتا ہوا

اک صدی کی داستاں کہتا ہوا
اک شجر دالان میں سوکھا ہوا

اک زمیں پیروں تلک سمٹی ہوئی
اک سمندر دور تک پھیلا ہوا

اک کہانی پھر جنم لیتی ہوئی
اک فسانہ دفن پھر ہوتا ہوا

اک کرن افلاک سے آتی ہوئی
اک اندھیرا چاند پر بیٹھا ہوا

اک زمیں دو بوند کو ترسی ہوئی
اک نگر سیلاب میں ڈوبا ہوا

ایک کشتی غرق خوں ہوتی ہوئی
اک مسیحا چھوڑ کر جاتا ہوا

ایک چڑیا چہچہیں کرتی ہوئی
اک شکاری طاق میں بیٹھا ہوا

اک گلہری پیڑ پر چڑھتی ہوئی
اک مصور سوچ میں ڈوبا ہوا

اک ڈگر سوئے فلک جاتی ہوئی
اک ستارہ بام پر اترا ہوا

اک غزل پھر دستکیں دیتی ہوئی
اک تصور پھر بدن لیتا ہوا

Rate it:
Views: 581
08 Jun, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL