اک پل بھی تیری یاد بھلائی نہیں جاتی
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindiاک پل بھی تیری یاد بھلائی نہیں جاتی
ہم سے تو مصیبت یہ اٹھائی نہیں جاتی
جو عشق کی ہے چوٹ، چھپائی نہیں جاتی
اور لب پہ شکایت بھی تو لائی نہیں جاتی
کیا خاک اثر اس میں ہو اے پیر مغاں ! پھر
نظروں کے جو شیشے سے پلائی نہیں جاتی
پردے کا یہ عالم بھی قیامت کی جھلک ہے
چلمن کبھی رخ سے جو ہٹائی نہیں جاتی
ہر وار حسینوں کا کھلا زہر ہے لیکن
یہ دل عجب شے، جو بچائی نہیں جاتی
اس شرم پہ قربان فرشتوں کی حیا ہے
حوروں سے یہاں آنکھ اٹھائی نہیں جاتی
یادوں کا تیری لے کے خزانہ بھی چلے ہیں
اشکوں سے فقط بزم سجائی نہیں جاتی
ملتا ہے صلہ خون بہانے کا جہاں میں
بیکار تو محنت کی کمائی نہیں جاتی
اک چوٹ لگی تجھ کو بھی دل پر ہے یقینا
رومی ! جو تیری شعلہ بیانی نہیں جاتی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






