اک پل بھی تیری یاد بھلائی نہیں جاتی

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

اک پل بھی تیری یاد بھلائی نہیں جاتی
ہم سے تو مصیبت یہ اٹھائی نہیں جاتی

جو عشق کی ہے چوٹ، چھپائی نہیں جاتی
اور لب پہ شکایت بھی تو لائی نہیں جاتی

کیا خاک اثر اس میں ہو اے پیر مغاں ! پھر
نظروں کے جو شیشے سے پلائی نہیں جاتی

پردے کا یہ عالم بھی قیامت کی جھلک ہے
چلمن کبھی رخ سے جو ہٹائی نہیں جاتی

ہر وار حسینوں کا کھلا زہر ہے لیکن
یہ دل عجب شے، جو بچائی نہیں جاتی

اس شرم پہ قربان فرشتوں کی حیا ہے
حوروں سے یہاں آنکھ اٹھائی نہیں جاتی

یادوں کا تیری لے کے خزانہ بھی چلے ہیں
اشکوں سے فقط بزم سجائی نہیں جاتی

ملتا ہے صلہ خون بہانے کا جہاں میں
بیکار تو محنت کی کمائی نہیں جاتی

اک چوٹ لگی تجھ کو بھی دل پر ہے یقینا
رومی ! جو تیری شعلہ بیانی نہیں جاتی

Rate it:
Views: 680
17 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL