اک چور دریچہ سا تصور میں کھلا ہے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabad اک باب نیا عشق کے عنوان سے کھلا ہے
جس میں ترے اطوار کا کچھ ذکر ہوا ہے
توُ خود سے تو مانوس ہے اوروں سے گریزاں
ڈر ہے کہ یہ محتاظ ادا ہم سے روا ہے
لے آنکھ تو بند ہے تجھے آنا ہو تو آ جا
اک چور دریچہ سا تصور میں کھلا ہے
آؤ گے تو مل بیٹھ کے مٹ جائیں گے شکوے
تم مجھ سے خفا تھے یہ اب مجھ پہ کھلا ہے
ھم جان کو نذرانہ کیے دیتے ہیں تم پر
قربانی و ایثار کا موقع جو ملا ہے
تم خوش رہو محفل کی سدا جان رہو تم
طاہر تو فقط طالبِ منظورِ وفا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






