اکثر سوچتا رہتا ہوں میں
Poet: Hukhan By: Hukhan, Karachiاکثر سوچتا رہتا ہوں میں
کس قدر خوش نصیب ہوگا وہ
جسے تو ملے گا
جسے من تیرا اپنا کہے گا
اکثر سوچتا رہتا ہوں میں
کیا مکان ہوگا
جسے تو اپنے چراغِِ دل سے
روشن کرے گا
اکثر سوچتا رہتا ہوں میں
کیا آسمان ہوگا
جسے تو آسمان بن کر
روشن کرے گا
اکثر سوچتا رہتا ہوں میں
کیا آنکھ ہوگی
جسے تو اپنا نظارہ
بخشا کرے گا
اکثر سوچتا رہتا ہوں میں
کیا آنگن ہوگا
جہاں تو بسیرا کرے گا
خان کیسے روک پاؤں گے سوچ کو
جب اسے ہی نہ روک پائے تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






