اکثر یہ بڑے پہاڑ
Poet: Syed Harris Ahmed By: Syed Harris Ahmed, Counselling, Event Managementاکثر یہ بڑے پہاڑ
مجھ سے کچھ کہنا چاھتے ہیں
میں انکے قریب جاتا ہوں
یہ مجھ سے دور ہو جاتے ہیں
ملنے کی کوشش
دونوں جانب سے ہے
مگر
کبھی مجھے دیر ہوئی
تو کبھی وہ دیر کر جاتے ہیں
یہ درخت مجھے اپنے
رقیب سے محسوس ہوتے ہیں
یہ مجھ سے جلتے ہیں
مجھے اپنی چھاؤں سے دور کر کے
میری تڑپ کاموازنہ
گرم تپش سے کرتے ہیں
پہاڑ بھی مجھے دیکھنے کا
منتظر لگتا ہے
جب بھی کھلے آکاش کے سائے تلے
اسے دل بھر کے جو دیکھوں
تو برف سے خود کو
ڈھانپ لیتا ہے
ھوا بھی شاملِ سازش ھے
تیز آوازوں سے
اسکے الفاظ دبا دیتی ہے
لہجے کو گونج نہیں دیتی
مجھے بے بس دیکھ کر
مۤسکراتی ہـے
رشک تو اِن چشموں کی قسمت پہ ہے
جو اِسکے درمیاں بہتے ہیں
اسکے چھو کر
خود کو محزوظ کرتے ہیں
مجھے بے چین دیکھ کر
بہت اِترا کے چلتے ہیں
میں تو احسان مند بس
رِم جِھم کا رہـتا ہوں
جو میرے ارمانوں کا بھرم
بڑے شان سے رکھتی ہے
اّس پر برس کر
میرے پاس آتی ہے
اور اسکی خوشبـو سے
میرا دل بہلاتی ہے
مجھے دِلاسہ دیتی ہـے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






