اکیلا کبھی عید نہ کر
Poet: By: Khalid Pervez, Pasrur Saukin Windگزرے ہوئے لمحوں کی گفت و شنید نہ کر
اب اپنوں یا بیگانوں پہ کوئی تنقید نہ کر
وقت لیتا نہیں آغوش محبت میں آ کر
ہاتھ سے بنا گلشن غیروں سے امید نہ کر
چل دیکھ کر زمانے کی ویران راہوں میں
جو دے پل کا آرام وہ پل کبھی خرید نہ کر
مقام اول محنت سے ملتا ہے خوشی کے لئے
ہر لفظ سے کچھ کر حاصل فقط تردید نہ کر
تجھ میں ہے سکت تو جی کسی کے لئے خالد
سجا کر تن کو اپنے اکیلا کبھی عید نہ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






