اکیلے رہنے کی خود ہی سزا قبول کی ہے

Poet: شکیل اعظمی By: عاقب, Rawalpindi

اکیلے رہنے کی خود ہی سزا قبول کی ہے
یہ ہم نے عشق کیا ہے یا کوئی بھول کی ہے

خیال آیا ہے اب راستہ بدل لیں گے
ابھی تلک تو بہت زندگی فضول کی ہے

خدا کرے کہ یہ پودا زمیں کا ہو جائے
کہ آرزو مرے آنگن کو ایک پھول کی ہے

نہ جانے کون سا لمحہ مرے قرار کا ہے
نہ جانے کون سی ساعت ترے حصول کی ہے

نہ جانے کون سا چہرہ مری کتاب کا ہے
نہ جانے کون سی صورت ترے نزول کی ہے

جنہیں خیال ہو آنکھوں کا لوٹ جائیں وہ
اب اس کے بعد حکومت سفر میں دھول کی ہے

یہ شہرتیں ہمیں یوں ہی نہیں ملی ہیں شکیلؔ
غزل نے ہم سے بھی بہت وصول کی ہے

Rate it:
Views: 1525
01 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL