اگر تم دو اجازت تو
Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد, امٹاٹا ساؤتھ افریکااگر تم دو اجازت تو
مجھے تم سے ابھی سرگوشیاں کرنی ہیں چُپکے سے
اگر تم دو اجازت تو
مجھے دینا ہے نازک سے تمہارے ہاتھ پر بوسہ
اگر تم دو اجازت تو
ترے دامن کو بھرنا ہے نئے موسم کے پھولوں سے
اگر تم دو اجازت تو
تم اتنا کھل کھلا کر ہنس پڑو وہ بات کہنی ہے
اگر تم دو اجازت تو
ذرا سا پاس آؤ تو تمہارے کان میں کہہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
اگر تم دو اجازت تو
یہ جملہ زور سے کہہ دوں
اگر تم دو اجازت تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






