اگر کبھی تم نہیں بدلتے

Poet: عرشیہ ہاشمی By: arshiya hashmi, islam abad

میں لیتی چندا کو استعارہ تجھے میں نور بہار لکھتی
تجھے فلک کے ستارے دیتی محبتیں بے شمار لکھتی

اگر تو مجھ سے مثال خضر،،،جفا کا قصہ کبھی نہ کرتا
تو دیتی تجھ کو میں اپنا سورج،،،تجھے وفا کا نکھار لکھتی

کمال یہ تھا بدلتی رت میں تم اپنا لہجہ نھیں بدلتے
چمکتا تارا تجھے بناتی ،،میں چاند تجھ پر نثار لکھتی

سجاتی میں بھی ہتھیلی اپنی تیری محبت کی تتلیوں سے
ہنسی خوشی میں جو ساتھ گذرے خوشی کے لیل و نہار لکھتی

اگر کبھی بھی نہ تم بدلتے،،،،اگر نہ تم راستہ بدلتے
نہ چشم نم میں تمہیں دکھاتی،،ہنسی لبوں سے جدا نہ کرتی

بھلا کے عرشی کو تم اگر نہ رخ غزل اسکی انکھ کرتے
 

Rate it:
Views: 426
22 Oct, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL