اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نونٹگھماگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی نم نگاہوں سے مُجھے آخری بار ملنے آ جانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی یادُوں سے مُجھے مرحُوم نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی محبت کی چادر میں مُجھے بھیگو کے رکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو رات کی چاندنی میں اِے میرے چاند ستارہ بنے مُجھے ساتھ دیکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو مُجھے تم بے وفا نہ سمجھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو میری محبت کی قسموں کو راہگاں نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی بانہوں میں مُجھے احساس بنا کے تھام لینا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی چاہت سے میرے گھر والوں کو میری کمی کا احساس نہ دھلانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اُس مُوت کے سمندر میں مُجھ پر فتح کر منہ نہ موڑ جانا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






