اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نونٹگھماگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی نم نگاہوں سے مُجھے آخری بار ملنے آ جانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی یادُوں سے مُجھے مرحُوم نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی محبت کی چادر میں مُجھے بھیگو کے رکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو رات کی چاندنی میں اِے میرے چاند ستارہ بنے مُجھے ساتھ دیکھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو مُجھے تم بے وفا نہ سمجھنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو میری محبت کی قسموں کو راہگاں نہ کرنا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی بانہوں میں مُجھے احساس بنا کے تھام لینا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اپنی چاہت سے میرے گھر والوں کو میری کمی کا احساس نہ دھلانا
اگر کل تم اُٹھو اور تمہیں پتہ چلے کہ میں نہیں رہا
تو اُس مُوت کے سمندر میں مُجھ پر فتح کر منہ نہ موڑ جانا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






