اہل دل بھی کمال کرتے ہیں
Poet: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati By: Ghulam Mujtaba Haashmi Yaasir Al Barkaati, Hyderabad, Pakistanزیست کو لازوال کرتے ہیں
اہل دل بھی کمال کرتے ہیں
کام جو بے مثال کرتے ہیں
کب وہ فکر مآل کرتے ہیں
دور رہ کر ترے تصور میں
ہم بسر ماہ و سال کرتے ہیں
ساری دنیا ہے آپ کی شیدا
آپ کس کا ملال کرتے ہیں
وار کرنا تو اس کی فطرت ہے
سہنے والے کمال کرتے ہیں
اس کا ملتا نہیں جواب ہمیں
ان سے ہم جو سوال کرتے ہیں
ہنس کے کہتے ہیں ہم نہیں سنتے
ہم اگر عرض حال کرتے ہیں
جتنے شکوے ہیں ان کو مجھ سے ہیں
میرا کتنا خیال کرتے ہیں
کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا
سننے والے کمال کرتے ہیں
وہ ہے وعدہ خلاف اور یاسر
اعتبارِ وصال کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







