اہلِ محبت
Poet: wasif uz zaman katib By: wasif uz zaman, bhimber AJ&Kمختصر سا تعارف ہے ہمارا اے دنیا والو
اہلِ محبت ہیں خدارا پہچان لو ہمیں
ہمارے ہاں تو محبت بانٹی جاتی ہے ہر وقت
اپنے شہر کا حال بھی سناؤ ہمیں
اس قدر ہنر سیکھ لیا ہے ہم نے
کانٹے کو پھول میں بدل کے دیں گے تمھیں
مثالیں دے کہ امن کی وادی کی ہر روز
یاد کرتی ہے دنیا دن رات ہمیں
لفظ نفرت جیسے ناپید سا ہوگیا ہو
محبت کے ذکر سے ملتی نہیں فرصت ہمیں
خورشید ہی وہ چمکا کہ قسمت ہی بدل گئی
اندھیروں میں رہ کر بھی محبّت مل گئی ہمیں
ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ بھی نہیں لکھا کاتب
اپنے ہاتھوں سے لکھنا اپنی قسمت آ گیا ہے ہمیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






