ایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی

Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK

ایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی۔
مگر کیا کیجیئے کہ ان بن گذارا نہین کوئی۔

وہ زخم دیے جہان نے کہ گنتی مین نہین آتے۔
وہ سزا ملی پیار کی جس کا شمارہ نہین کوئی۔

اس دل کو اس کی یاد نے مار رکھا ھے۔
اور ما سوا تڑپنے کے بھی چارہ نہین کوئی۔

ہم مانتے ہین کہ ساری خطا اپنے دل کی ھے۔
اس مین کوئی بھی دوش اس کا نہین کوئی۔

ہین یتیمان عشق ہم سے کئی اور بھی دنیا مین۔
جن کا والی وارث جہان مین سہارہ نہین کوئی۔

جان چھڑکتا ھے دل اس پر ہر پل ہرگھڑی۔
پھر کہتا ھے کمبخت ہمین پیارا نہین کوئی

نظرین جھکانہ شرمانہ اور پھر مسکرا دے نا۔
کیا یہ سیدھی الفت درشاتا اشارہ نہین کوئی؟۔

وہ جو تختیئے عشق پر کندہ نہ ہو سکا۔
ایک اکیلا دنیا مین نام تمہارا نہین کوئی۔۔

Rate it:
Views: 554
15 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL