ایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPKایسا نہین کہ غم کا اپنے چارہ نہین کوئی۔
مگر کیا کیجیئے کہ ان بن گذارا نہین کوئی۔
وہ زخم دیے جہان نے کہ گنتی مین نہین آتے۔
وہ سزا ملی پیار کی جس کا شمارہ نہین کوئی۔
اس دل کو اس کی یاد نے مار رکھا ھے۔
اور ما سوا تڑپنے کے بھی چارہ نہین کوئی۔
ہم مانتے ہین کہ ساری خطا اپنے دل کی ھے۔
اس مین کوئی بھی دوش اس کا نہین کوئی۔
ہین یتیمان عشق ہم سے کئی اور بھی دنیا مین۔
جن کا والی وارث جہان مین سہارہ نہین کوئی۔
جان چھڑکتا ھے دل اس پر ہر پل ہرگھڑی۔
پھر کہتا ھے کمبخت ہمین پیارا نہین کوئی
نظرین جھکانہ شرمانہ اور پھر مسکرا دے نا۔
کیا یہ سیدھی الفت درشاتا اشارہ نہین کوئی؟۔
وہ جو تختیئے عشق پر کندہ نہ ہو سکا۔
ایک اکیلا دنیا مین نام تمہارا نہین کوئی۔۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






