ایسا کبھی نھ ہو
Poet: Unknown By: Amir, Lahoreتم روٹھ جاؤ مجھ سے ایسا کبھی نھ ہو
میں اک نظر کو ترسوں ایسا کبھی نھ ہو
میں پوچھ پوچھ ہاروں سو سو سوال کر کے
تم کچھ جواب نہ دو ایسا کبھی نھ ہو
کچھ میں بھی جنونی ہوں کچھ میری محبت بھی
یہ جنوں تھم جائے ایسا کبھی نہ ہو
میرے ہی ساتھ ہنسنا مجھ سے ہی مل کر رونا
مجھ سے بچھڑ کے جی لو ایسا کبھی نہ ہو
تم چاند بن کے چمکنا میں دیکھتی رہوں گی
کسی رات تم نہ نکلو ایسا کبھی نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







