ایسا کرنا پڑا مجھے

Poet: Mohsin Naqvi By: Numan iqbal, Faisalabad

مرتی ہوئی زمین کو بچانا پڑا مجھے
بادل کی طرح دشت میں آنا پڑا مجھے

وہ کر نہیں رہا تھا میری بات کا یقین
پھر یوں ہوا کے مر کے دکھانا پڑا مجھے

بھولے سے میری سمت کوئ دیکھتا نہ تھا
چہرے پر اک ذخم لگانا پڑا مجھے

اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے

اس بےوفا کی یاد دلاتا تھا ہر پل
کل آئینے پہ ہاتھ اٹھانا پڑا مجھے

ایسے بچھڑ کر اس نے تو مر جانا تھا محسن
اس کی نظر میں خوکو گرانا پڑا مجھے

Rate it:
Views: 1414
08 Apr, 2013