یادوں کی دیمک لگ گئی ہیں دل میں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.A

یادوں کی دیمک لگ گئی ہیں دل میں
چہرے پر روانی کہاں سے آئے گی

خالی ہاتھوں پر مہندی کا ارمان لیے ترستے رہے
کبھی سوچا ہی نہیں وہ مہندی کہاں سے آئے گی

بے خبر دیوانوں کی طرح راستوں میں کھڑی رہی
ُاس سے پوچھا نہیں ُاس کی سواری کہاں سے آئے گی

بے نقاب دیکھ لیا اب تو ُاس نے مجھے لیکن
ُاس کی خوشی میں راز داری کہاں سے آئے گی

کتنی خاموش وہ شخص محبت کرتا ہے مجھے
نہیں معلوم اظہار کی بے قراری کہاں سے آئے گی

خدا نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا پر ہی سونپ دیتی ہوں
ُاس کے چاہے بناء میری زندگی میں خوشی کہاں سے آئے گی

Rate it:
Views: 587
08 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL