ایسا کرو ہمیں ذرا ، ہواؤں میں تحلیل کردو
Poet: nosheen fatima abdulhaqq بقلم خود By: nosheen fatima abdulhaqq, jeddah saudi arabعاجز ہو طب مرض سے ہمیں اتنا علیل کر دو
جتنےچاہوزخم دے کر زندگی ہم پہ ثقیل کردو
محترف نہیں ہم پراک سوداکریں پیشہ ورانہ
سکھ چین لو ہمارے ہمیں اپنے دکھ تحویل کردو
ڈر ہے کہ تشنگی کہیں ہوجائے نہ کم ہماری
ہماری ذات پہ تم اپنی مہربانیاں قلیل کر دو
بےتابی اپنی جگہ سناہےانتظارمیں ہےلذت
خوابوں میں آنےکےتم وقفے طویل کردو
فناہوکےشایدتم تک پہنچ ہی جائیں ہم
ایساکروہمیں ذرا ہواؤں میں تحلیل کردو
جوکہتےہیں محبت اب کتابوں میں ہی سجتی ہے
وفاؤں کےذریعےنوشی انکوپیش اک دلیل کردو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






