ایسا کیوں

Poet: NAIN By: NAIN, muzaffar garh

اے دوست مدتوں سے مجھے تڑپا رہا ہے کیوں
راکھ تو پہلے ہی ہو چکا ہوں پھر جلا رہا ہے کیوں

سوچیں تو یہ تھیں کہ واپس کبھی لوٹ ہی آئے گا
تو پھر اب میرے دل پر نیا زخم سجا رہا ہے کیوں

میں تو خود کو وفا شھنشاہ سمجھتا تھا
لیکن تہمت بے وفائی کی مجھ پر لگا رہا ہے کیوں

زمانے میں کبھی تو میرے ہاتھوں میں ہاتھ تھا تیرا
اب غیروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکھا رہا ھے کیوں

کبھی خود بے چین ھوتا تھا مجھ سے ملنے آؤ
آج میں ملنے آیا ہوں تو مجھے ٹھکرا رہا ہے کیوں

تیرا وعدا تھا تجھے اپنے ہاتھ سے دفناؤں گا میں
آیا ہے یار سامنے تو پھر جا رہا ہے کیوں

Rate it:
Views: 683
23 Feb, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL