ایسا ہو اتحاد کہ دنیا مثال دے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایا رب ہمارے بیچ سے نفرت نکال دے
ایسا ہو اتحاد کہ دنیا مثال دے
ہر درد عاشقی مرے حصے میں دال دے
نازک سے اس کے دل کے نہ رنج و ملال دے
منھ سے تو چھین لے جو نوالہ حرام ہو
عزت کے ساتھ بس ہمیں رزق حلال دے
سیرت سے ہی حسن کی پہچان کر سکیں
نادان عاشقوں کو وہ ذوق جمال دے
باطل کی ساری فوجیں ہوں از خود ھی سر نگوں
کردار میں ہمارے وہ جاہ و جلال دے
ہر کام چھوڑ چھاڑ کے چل د یں نماز کو
مسجد کی ہر ازان کو رنگ بلال دے
لکھنے میں حق کی بات نہ کانپیں کبھی بھی ہاتھ
یا رب مرے سخن کو تو ایسا کمال دے
ارماں وشمہ کا ہے وہ مقدر ہو یا نبی
وقت اجل جو آپ کے قدموں میں ڈال دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






