ایسا ہی ہوں میں
Poet: By: Hukhan, karachiہاں سچ ہے
تھوڑا سا اڑیل ہوں۔۔تھوڑا سا سڑیل ہوں
ہر اک کے آگے بچھ جائے جو
نہیں ایسا نہیں میں
کہہ دوں مغرور ہوں میں
ہر کسی کے سامنے
ہتھیلی پر دل نہ رکھ پاؤں میں
ہاں غرور ہے مرد ہوں میں
کیسے یہ بھول جاؤں میں
بلا وجہ کسی کو منا ہی نہ پاؤں میں
چل سکو تو ضرور چلو
سہارا تو سہی
مگر بیساکھی کسی کی
نہ بن پاؤں میں
وفا کی تو کبھی کمی نہ ہوئی
مگر خود کو خود کی
نظر میں نہ گرا پاؤں میں
چل سکو تو ساتھ چلو
گزارشیں دل کی نہ بتا پاؤں میں
جان سکو تو جان لو
مردانگی کا اپنی سودا نہ کرپاؤں میں
نظر میری آسمان پرمگر
پاؤں کبھی زمین سے نہ اٹھا پاؤں میں
ایسا ہی ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







