جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن کسی غریب کے بچے روٹی کونہ ترسیں گے
سردی میں نہ ٹھٹھریں گے اور گرمی سے نہ جھُلسیں گے
اور نہ کسی لاچارکی آنکھ سے خون کے آنسو برسیں گے
جس دن ہراک محنت کش کوحق اُسکامل جائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن نہ کوئی سُپر پاور دُنیاکودھمکائے گی
نہ ہی کسی کاخون پئے ،نہ جینے کوترسائے گی
نہ دولت کے بل بوتے پرفتح کے جشن منائے گی
نہ کوئی فرعون جہاں پراپناجال بچھائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
جس دن اس دنیاکے باسی چَین سے وقت گزاریں گے
عدل کی صبح طلوع پھرہوگی،ظلم کوجان سے ماریں گے
دنیامیں دولت کے پُجاری ،کسی کاحق نہ ماریں گے
جس دن امن وسکون کاسکّہ دنیاپہ چل جائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
کسی کااستحصال نہ ہوگا،حق نہ چھیناجائے گا
عرب وعجم اوررنگ ونسل کے بُت سارے گرجائیں گے
دولت ،طاقت اورزبان کے فرق ختم ہوجائیں گے
تقویٰ ہی معیارتوہوگا، سب بھائی بن جائیں گے
اُس دن پھراسلام کاجھنڈا دُنیاپہ لہرائے گا
جس دن کسی پہ ظلم نہ ہوگا،ایسادن بھی آئے گا
شوکت ؔکویقین ہے سُن لو، ایسادِن بھی آئے گا