ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiاب تو صحرا میں بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
" ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے "
کتنی وحشت تھی مرے شہر کے ہر اک گھر میں
جانے کیوں پھر مرا گھر جانے کو جی چاہتا ہے
اب نہیں حوصلہ مجھ میں کہ میں اس سے کہدوں
اب تو تجھ سے بھی مکر جانے کو جی چاہتا ہے
کتنی بپھری ہوئی ہیں آج تو اس کی موجیں
اس سمندر میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
زندگی کیا ہے کبھی تو ہی بتا دے مجھ کو
کیوں مرا حد سے گذر جانے کو جی چاہتا ہے
لوگ سچے ہوں جہاں ساتھ نبھانے والے
اب کسی ایسے نگر جانے کو جی چاہتا ہے
فیصلہ کرنے میں درپیش ہے مشکل کیسی
لوٹ کر تیرا اگر جانے کو جی چاہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






