ایسے میں کون سمجھائے

Poet: junaid By: junaid, islamabad

تیرے بعد دیر تک روتا رہا
بیٹھا یہ سوچتا رہا
اس صبا میں تازگی نہیں
اس سحر میں زندگی نہیں

تیرے بن پرندے نا چہچہایئے
ایسے میں پھر تم یاد آئے

تیرے بن ایسا دل ٹوٹ گیا
جیسے شیشہ ہاتھ سے چھوٹ گیا
یاروں کی ہستی نہیں
پیاروں کی مستی نہیں

تیرے بنا محفل میں تنہائی ستائے
ایسے میں پھر تم یاد آئے

تیرے بنا ساون میں ایسا ہوں
خشک زمین کی طرح پیاسا ہوں
بادلوں میں ترنگ نہیں
دھنک میں رنگ نہیں

جب بجلی کی گڑگڑاہٹ ڈرائے
ایسے میں پھر تم یاد آئے

تیرے بعد بھی تیرا خیال ہے
پر ملنا مشکل تاحال ہے
کیوں کہ موت آتی نہیں
زندگی ہم جاتی نہیں

ایسے میں کون ہمیں سمجھائے
ایسے میں پھر تم یاد آئے

Rate it:
Views: 522
19 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL