ایسے ہونٹوں پہ تبسم کو سجایا جائے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایسے ہونٹوں پہ تبسم کو سجایا جائے
سحر کی گود میں اک پھول کھلایا جائے
تم چلو آج کی خواہش پہ تو ملنے آؤ
اور پھر چاہو تو تم پھر سے نبھایا جائے
تیری آنکھوں میں کسی یاس کا پانی بن کر
تیری ہستی پہ مجھے آج بھلایا جائے
حوصلہ دل میں رہے پیار نبھانا ہے کٹھن
پیار ہو جائے تو دشمن پہ لگایا جائے
میرے محبوب محبت میں سدا تیرے لئے
اچھا لگتا ہے مجھے دستِ دعا پایا جائے
تجھ سے اظہار محبت کا سلیقہ یہ ہے
ہم کو ہر حال میں ہر غم کو بھلایا جائے
ایسی بے نام وٖفاؤں سے کنارہ کرتے
ایسی قسمت پہ یہاں رقص منایا جائے
وہ جو اترے کبھی دل میں ترے خوشبو بن کر
وشمہ اس باغ بہاراں کو بھی پایا جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






