اینکرزکے نام
Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds (UK)سچ کی آڑ میں جھوٹ کو سہارا دیا تو نے بھی
حقائق کےجھانسے میں دھوکادیا تو نے بھی
مہمانوں سے غیر جانبدار تجزیے کرانے کی بجائے
اک حلقے کے ترجمانوں کو آگے بڑھایا تو نے بھی
کبھی رائٹ کبھی لفٹ کبھی ریاست کبھی سیاست
کبھی فوج اور سول کو سامنے لا کھڑا کیا تو نے بھی
بجائے انقلاب کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے
تبدیلی کے بھیس میں آمریت کو بچایا تو نے بھی
لالچ طاقت ھوس دھاندلی اور امارت کے بل بوتے پر
اپنے پروگرام کی ریٹنگ کو بڑھاوا دیا تو نے بھی
انتخاب عنوان سے اپنے حریفوں کو ٹارگٹ کے لیے
عوام کی رائے نہ پوچھ کر خوب پراپگنڈا کیا تو نے بھی
اپنے پروگرام میں خاص لوگوں کو دعوت دے کر
سوالات کے چناؤ میں اپناایجنڈا بڑھایا تو نے بھی
ملکی مفاد کےنام پر کیا کیا جرائم نہ کیے ھم نے
بحث و تمحیص میں تاریخ کو مسخ کیا تو نے بھی
کرائے کے پروفیشنلز کو متعارف کرانے کے لیے
زمین و آسمان کے قلابے ملاے تو نے بھی
تم بھول گئے تماری آواز غریبوں کی آواز ھونی چاھیے
دھشت گردوں کی سطوت کی دھاک کو بٹھایاتو نے بھی
تعلیم صحت ماحول معیشت و معاشرت کے مسائل اٹھا نہ سکے
مگر حسن متازعہ مسائل پر عوام پاکستان کو لڑایا تو نے بھی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






