ایک اکیلا سماج سے ٹکرانے چلا ھے

Poet: اسد رضا By: اسد, MPK

ایک اکیلا سماج سے ٹکرانے چلا ھے
حریفون کو اپنے آنکھیں دکھانے چلا ھے

مدتوں کے بچھائے گندے سیاسی جال کو۔
ایک جھٹکے مین ملیا میٹ کرانے چلا ھے۔

ہم تو دعائے خیر کے طلب گار ہیں فقط۔۔۔
سنا ھے ظلمت سے پرخچے اڑانے چلا ھے

Rate it:
Views: 1007
23 Apr, 2022
More Political Poetry