ایک بستی مرے دل کے ہی جہاں سے آئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ وہی میرا نگر ہے تو مکاں سے آئی
ایک بستی مرے دل کے ہی جہاں سے آئی
میری سرحد میں غنیموں کا گزر کیسے ہوا
تھی سروں کی وہ جو دیوار کہاں سے آئی
یوں تو کہنے کو بس اک موج تھی پانی کی مگر
دیکھنا یہ ہیں کہ پل بھر میں خزاں سے آئی
بعد مدت کے ملا ہے تو مرے یار بتا
تیری آنکھوں میں اک ہی ہے بتاں سے آئی
اب کسی بات میں بھی جی نہیں لگتا میرا
دل میں آ بیٹھی ہے جو خواہش وہاں سے آئی
تیرے چہرے پہ عمرؔ آج یہ رونق کیسی
پھر طبیعت کوئی موضوع بیاں سے آئی
تذکرے جس کے کتابوں میں پڑھا کرتے تھے
دیکھ وشمہ وہ قیامت کی خزاں سے آئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






